نئی دہلی 28 ستمبر(ایس او نیوز؍آ ئی این ایس انڈیا) مودی حکومت کی پالیسیوں کی تنقید کرنے والے بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے کہا کہ کیا میں دھرنے پر بیٹھ جاتا۔میں نے پی ایم سے ملنے کے لئے ایک سال قبل وقت مانگا تھا ؛لیکن انہوں نے وقت نہیں دیا۔جی ایس ٹی میں بہت سے غلطیاں ہیں ،کوئی بھی اس سمت توجہ دینے کیلئے تیار نہیں ہے ۔جی ایس ٹی میں مبینہ خامیوں کی وجہ سے چھوٹے تاجر فکر مند ہیں۔جی ایس ٹی کے نفاذ میں بہت کمزوریاں موجود ہیں۔میرا سوال کرنا معیشت کی خاطر ہے ۔ اس کے پس پردہ میرا کوئی سیاسی مفاد نہیں ہے ،میں نے ملک اورپارٹی کے مفاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ سوال قائم کیا ہے ۔ دراصل ایک اخبار میں طبع مضمون کے بعد سرخیوں میں آئے سابق وزیر خزانہ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا آج پہلی بار میڈیا کے سامنے آئے اور مودی حکومت پر جم کر تنقید کی ،یشونت سنہا نے کہا کہ ہم یو پی اے کے وقت پالیسی پراسس کی بات کرتے تھے، لیکن آج بھی پالیسیاں ویسی ہی ہیں۔جس رفتار میں منصوبوں کے عمل درآمد میں تیزی آنی چاہیے تھی، موجودہ حکومت کے وقت میں نہیں آئی۔40 ماہ تک حکومت میں رہنے کے بعد اب ہم سابقہ حکومت کوقصور وار نہیں ٹھہرا سکتے ،نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی مبینہ صورت میں عوام کو ایک کے بعد ایک ڈبل جھٹکے دیئے گئے۔یشونت سنہا نے بتایا کہ بہت دنوں سے ہم جانتے ہیں کہ بھارت کی معیشت میں گر اوٹ واقع ہو رہی ہے ،اس کے لئے ہم سابقہ حکومت کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے ہیں؛کیونکہ ہم مکمل وقت ملا تھا کہ معاشی گراوٹ میں اصلاح کریں،40مہینے تک حکومت میں رہا ہے؛لیکن طرفہ تماشا یہ کہ ہم نے اس میں اصلاح نہیں کی ۔ میں جی ایس ٹی کی حمایت کرتا ہوں، لیکن حکومت اس کے نفاذ میں عجلت اختیار کر گئی ؛لازماً عوام کو منفی اثرات کا سامنا ہے اگرکانگریس کے وزیر خزانہ کو چھوڑ دیں تو میں ہی واحدفرد ہوں جس نے 7بار بجٹ پیش کیا ہے ۔آج ملک کے لوگ روزگار چاہتے ہیں؛ لیکن جب ان سے پوچھا جاتا کہ وہ برسر روزگار ہیں تو جواب نفی میں ملتا ہے۔غور طلب ہے کہ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے بدھ کو ایک انگریزی اخبار میں مضامین لکھ کر گرتی معیشت کے ذیل میں ارون جیٹلی پر نشانہ لگایا تھا۔ یشونت سنہا نے لکھا کہ ارون جیٹلی نے اس حکومت میں سب سے بڑا چہرہ رہے ہیں ،کابینہ میں نام طے ہونے سے پہلے ہی ان کا نام طے تھا کہ جیٹلی امور اقتصادیات سنبھالیں گے ۔لوک سبھا انتخابات ہارنے کے باوجود انہیں وزیر بننے سے کوئی نہیں روک پایا۔سنہا نے کہا کہ اس سے پہلے اٹل بہاری واجپئی حکومت میں جسونت سنگھ اور پرمود مہاجن بھی واجپئی کے قریبی تھے، لیکن اس کے بعد بھی انہیں وزیر نہیں بنایا گیا تھا۔